یوں تو ہر انسان میں کئی خوبیاں ہوتی ہیں۔ دنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جس میں خوبیاں اور خامیاں نہ ہوں، مگر میر یوسف عزیز مگسی ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں خوبیوں سے نوازہ تھا۔
یوسف عزیز مگسی جنوری 1908 کو نواب قیصر خان مگسی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی تعلیم کا آغاز پانچ برس کی عمر میں کیا اور جلد ہی عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل کرلیا تھا۔ ان کی روشن خیالی اور زہن سازی میں انکے استاد کنیہ لال نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سن 1920ء کی دہائی وہ دور تھا جب بلوچستان سیاسی پسماندگی کے حوالے سے اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا۔ انگریزوں نے بلوچستان کے سیاسی نظام کو بری طرح سے بگاڑ دیا تھا بلوچستان کی صورتحال کسی بد ترین نو آباد کار علاقے جیسی ہوگئی تھی۔ حالانکہ ماضی میں بلوچستان کی سیاسی حیثیت کو عالمی سطح پر سلطنت عثمانیہ جیسے طاقت اور احمد شاہ ابدالی جیسے بادشاہ بھی تسلیم کر چکے تھے۔ میر یوسف عزیز جس کا اپنا تعلق ایک سردارزادہ خاندان سے تھا ان کے لئے بہت آسان تھا کہ وہ اسٹیٹسکو (Status quo) کا حصہ بن کر دیگر سرداروں کی طرح اپنے ہی لوگوں کا استحصال کرے لیکن گلزمین کی محبت نے ان کو قومی شعور عطا کیا تھا۔ اس دور میں انگریزوں نے مقامی آبادی کو سیاسی شعور سے دور رکھنے کیلیئے اخبارات اور دیگر علمی اشاعت پر پابندی عائد کی تھی اور انگریزوں کی مسلط کردہ وزیراعظم شمس شاہ نے خان کی طاقت کو مزید کم کرنے کیلئے اسٹیٹ آف قلات کے تخت پر میر انور جان ولد میر محمود خان کا نام تجویز کیا تھا جو مکمل طورپر صحت یاب نہیں تھے لیکن ان کو منتخب کرنے کا مقصد قلات کی تخت پر ایسی کٹھ پُتلی خان کو بٹھانا تھا جو ان کے فرمانبردار ہو اور دوسری طرف میر یوسف عزیز مگسی اور ان کے ساتھیوں کا مقصد یہ تھا کہ میر انور جان کے چھوٹے بھائی شہزادہ اعظم خان کو خان بنایا جائے تاکہ وہ شمس شاہ کے بجائے اپنی عوام کی نمائندگی کے فرائض سر انجام دے چونکہ بلوچستان میں اخبارات کی اشاعت پر پابندی تھی جو میر یوسف نے لاہور کے ایک اخبار مساوات میں ایک کالم ” فریاد بلوچستان” کی نام سے تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے بلوچستان میں آئینی و جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا اور برطانوی حکومت سمیت شمس شاہ کو ان کی جابرانہ پالیسوں کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ان کو اس عمل کی وجہ سے ایک سال قید میں مستونگ بھیجا گیا اور بیس ہزار روپیہ جرمانے کی سزا دی گئی، مستونگ جیل میں ان کی ملاقات ایک ہم خیال ساتھی میر عبد العزیز کُرد سے ہوئی اور جیل سے میر یوسف عزیز نے ایک بلوچ سیاسی جماعت “انجمن اتحاد بلوچاں” کی قیام کا اعلان کیا اس جماعت کا مقصد آزاد، متحد اور جمہوری بلوچستان کا قیام اور انگریز حکومت کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے جیل سے رہائی کے بعد شمس شاہ کے خلاف سیاسی تحریک کا آغاز کیا۔ میر یوسف مگسی نے قلات تخت کی امیدوار شہزادہ اعظم جان کی حمایت کا اعلان اس شرط پر کیا کہ وہ خان بننے کے بعد بلوچستان میں آئینی اصلاحات لائینگے۔ انجمنِ اتحاد بلوچاں کی طرف سے ایک پمفلٹ “شمس گردی” کے نام سے جاری کیا جس میں بلوچستان میں جمہوری طور پر منتخب اسمبلی کا مطالبہ اپنے ان الفاظ میں کیا کہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ اپنا حکمران اپنی مرضی سے منتخب کرے، ہم بلوچ، برطانوی سرکار کو یہ تنبیہ کرتے ہے کہ وہ بلوچوں کو ان کی بنیادی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ کرے اور شمس شاہ کی کاوشوں کی بجائے برطانوی سرکار عوامی رائے کو ترجیح دے ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ خان کو منتخب کرنے کا فیصلہ ہمیشہ چند قبائلی سرداروں کی ہاتھوں میں ہی رہا ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب تک شمس شاہ طاقت میں ہے وہ سرداروں کو ڈرا اور دھمکا کر اپنی بات منوا سکتا ہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر سردار اپنے لوگوں سے مشاورات کئے بغیر فیصلہ لے تو یہ ہمارے قدیم روایات کے برعکس ہوگا جسے ہم کسی صورت میں قبول نہیں کرینگے ہم ایسا خان نہیں چاہتے جو ایک وزیراعظم کی ماتحت ہو بلکہ ہم ایک ایسا خان چاہتے ہیں جو بروقت آئینی جمہوری حکومت کا خواہاں ہو اور عوامی منتخب نمائندوں کو ایوان تک رسائی قبول کریں۔
میر یوسف عزیز کے تحریک نے بلوچ عوام پر گہرا اثر چھوڑا رند، رئیسانی قبیلے کی شاخ روستم زئی مینگل اور بگٹی قبائل کے لوگوں نے اپنے سرداروں کے خلاف بغاوتیں کیے اس صورتحال سے خوفزدہ ہوکر انگریزوں نے شمس شاہ کے امید وار میر انور جان کے تخت نشینی کی بجائے انجمن حمایت یافتہ امیدوار شہزادہ اعظم خان کی تخت نشینی کو تسلیم کیا، اس کے علاوہ شمس شاہ کو انکے عہدے سے برطرف کیا یہ انگریزوں کی خلاف بلوچوں کی پہلی سیاسی کامیابی تھی بلوچوں کو مزید منظم کرنے کیلئے میر یوسف عزیز مگسی نے 20 اکتوبر سن 1932ء جیکب آباد آل انڈیا بلوچ کانفرنس طلب کی اس میں منعقدہ بلوچ لیڈر جیسا کہ سردار جمال خان لغاری، نواب مشتاق احمد قرمانی، سردار رسول بخش خان کورائی نے بھی شرکت کی، اس کانفرنس میں یہ اعلان کیا گیا کہ “انجمن اتحاد بلوچاں” کا مقصد بلوچوں کی قومی اتحاد اور یکجہتی، ان میں تعلیم کا فروغت اور ان کے جمہوری حقوق کا تحفظ ہے۔ اس کانفرنس کی سربراہی ریاست خیرپور کے حاکم میر نواز خان تالپور نے کی جنہوں نے اپنے خطاب میں کہ کہا تھا کہ بلوچ منفی سیاست سے خود کو دور رکھے ورنہ یہ انہیں تباہی کے دہانے تک پہنچا دیگا۔
اسی دوران نو منتخب خان شہزادہ اعظم خان نے یوسف عزیز مگسی سے ملاقات کی، انہوں نے میر یوسف عزیز اور ان کے جماعت کے منشور جس میں جمہوری اور آئینی اصلاحات تھی ان کو ماننے سے انکار کیا اور دونوں رہنماؤں میں شدید اختلافات پیدا ہوئے، خان اعظم خان کو بلوچستان میں رائج سرداری اور جاگیرداری نظام کی وجہ سے کسی آئینی جمہوری اصلاحات کے حامی نہیں تھے۔
انکو بخوبی علم تھا کہ آئینی اصلاحات سے ان کی حیثیت ایک نام نہاد حکمران کی ہو جائیگی اور طاقت عام بلوچوں کی حق میں چلی جائیگی اسکے علاوہ برطانوی سرکار بھی ان کے خلاف ہو جائیگی چونکہ برطانوی سرکار بھی بلوچستان میں سرداری و قبائلی نظام کی حمایتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی نظام سے برطانوی سرکار کے مفادات وابستہ تھے اس بات کی تصدیق ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ویلنگٹن نے ایک خان کی تخت نشینی کے وقت اپنے خطاب میں ان الفاظ میں کی تھی کہ اب خان آف قلات قدیم ریاست کے سربراہ ہیں، اس لئے یہ ضروری ہے آپ سرداروں کی مشاورات سے کام کرے، ان کی عزت و وقار اور حقوق کا تحفظ کرے۔ہر حکمران کو اپنے دور حکومت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر آپ پر کوئی مشکل آ جائے تو یہ بات یاد رکھے کہ ہم ہر وقت آپکی مدد کیلئے تیار ہے ۔ میر اعظم خان کے وفات کے بعد سن 1933ء میں میر احمد یار خان بطور خان تخت نشین ہوئے، وہ سابق خان کی نسبت انجمن کے منشور کے زیادہ حمایتی تھے۔ اس کی وجہ سے انجمن کے لئے سیاسی حالات ماضی کے نسبت سازگار ہوگئے ۔
سن 1934ء میں احمد یار خان نے میر یوسف کو بطور سفیر برطانیہ بھیجا تاکہ وہ انگریزوں سے بلوچستان کی مکمل آزادی کی بات کریں اور ریاست قلات سے لیز میں لئے ہوئے علاقہ جیسا کہ نوشکی، چاغی، بولان، مری بگٹی علاقہ اور نصیر آباد کو ریاست قلات کے ساتھ جوڑِیں لیکن انگریز سرکار کے ساتھ میر یوسف عزیز کی مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکا اور انہوں نے بلوچستان میں کسی بھی سیاسی و جمہوری اصلاحات کی مخالفت کی انگریزوں کی اس رویّے نے میر یوسف عزیزکو کافی مایوس کیا اور انگریزوں سے بلوچستان کی آزادی کے لئے میر یوسف نے انگریزوں کیخلاف مسلح تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو برطانوی تسلط سے آزاد کروانے کے سارے آئینی و جمہوری راستے بند ہوگئے ہیں، اب صرف مسلح جدوجہد ہی سے بلوچستان آزاد ہو پائیگا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سویت یونین سے مدد مانگی لیکن اپنے تحریک کو شروع کرنے سے پہلے ہی 31 مئی سن 1935ء کے دن کوئٹہ میں ایک حولناک زلزلہ آنے کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے ہم سے جُدا ہو گئے یوں بلوچستان ایک عظیم، با علم و باوقار رہنما سے محروم ہو گیا۔
