بلوچستان اور برطانوی سامراج

وارث بلوچ

یہ کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ برطانوی حکومت نے بلوچستان پر کیوں قبضہ کیا؟ اور کیسے پورے بلوچستان کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس حوالے سے بلوچ قبائل کا جواب کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ بلوچستان پر اس پورے قبضے کے کیا اثرات تھے جو آج بھی بلوچستان کو ترقی سے روک رہے ہیں۔ یہ کتاب 6 ابواب پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلے باب میں جغرافیہ، رقبہ و محل اور بلوچستان کی سیاسی اور علاقائی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں بلوچستان کے مختلف حالات اور واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں عہدِ آریانز، یونانی عہد، ہندی یا موریائی عہد ساسانی، سندھی اور شاہی عہد شامل ہیں اور انکے علاوہ خان کلات کے عہد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ باب سوئم میں بلوچستان کے ہمسایہ ممالک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ باب چارم میں بلوچستان میں توسیعی پسندانہ پالیسی کا آغاز اور اینگلو بلوچ معاہدہ کا تفصیلاََ جائزہ لیا گیا ہے۔ باب پنجم میں بلوچستان میں پڑنے والی اثرات کا بات کیا گیا ہے اور باب ششم میں بلوچستان میں برطانوی عہد کے اہم شخصیت کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔

‎جغرافیا کے حوالے سے بلوچستان جو سربفک اور دشوار گزار کوہستانوں، سرسبز و شاداب وادیوں اور لق و دق صہراہوں اور زرخیز میدانوں کو اپنے آغوش میں لیے ہوئے تین لاکھ چالیس ہزار مربع میل پر مشتمل ہندوستان اور ایران کے درمیان واقعہ صرف ایک سرزمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ اس پورے دنیا کا ایک عظیم گزرگاہ ہے۔ جس میں پانچ مشہور بندرگاہ بھی پائے جاتے ہیں جن کہ مدد سے کراچی اور بیرونی ممالک درآمد و برآمد کی جاتی ہے. یہاں کی آب و ہوا میں سال کے چاروں موسم موجود ہیں اور بلوچستان کا شمار معدنیات کے مالامال خطوں میں ہوتا ہے. بلوچستان میں صنعت و حرقت، معدنیات، بیرونی و اندرونی تجارت جیسے بہت سی چیزیں ہیں، جو عروج پر ہیں. بلوچستان جغرافیائی اور علاقائی لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایک طرف سے اس کے پاس 471 میل طویل ساحل ہے اور دوسری طرف درہ بولان اور درہ مولا جیسے قدیم پہاڑی گزرگاہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے سکندر آعظم سے لے کر عرب مسلمانوں تک یہ خطہ دنیا کے عظیم ترین تہذیبوں کا زیر اثر رہا ہے. بلکہ اب تو مھرگڑھ سے برآمد ہونے والے آثار نے بلوچستان میں ایک ایسی قدیم تہذیب کی نشاندہی کی ہے جو 10 سے 11 ہزار سال پرانا ہے۔

‎سیکنڈ سکندر اعظم کے موت کے بعد بلوچستان، افغانستان اور ایران سکندر کے مایا ناز جرنیل بیلوکس نکوٹا کے حصہ میں آئے مگر یونانی کا قبضہ صرف 20 سالوں تک رہا۔ اسکے بعد پھر چندر گپت موریا نے بلوچستان اور افغانستان بیلوکس سے چین لیے اور اسکے 100 سال حکومت کے بعد ایران اور بلوچستان پر ساقہ قبائل کا حملہ شروع ہوا. ساتویں صدی عیسوی کے دوران افغانستان سمیت بلوچستان کے کچھ حصہ سندھیوں کے قبضے میں رہا. اور پھر عربوں کے دوسرے یعنی اموی اقتدار کے دوران بلوچستان اور سندھ کا پورا خطہ عربوں کا زیر اثر رہا. عربوں کے کمزوریوں کی وجہ سے خاندان ال بویہ نے بلوچستان سمیت وسط ایشیاء کے زیادہ تر حصے قبضے کرکے سلطنت قائم کی. 950 ہجری تک مختلف ترک خاندانوں، جو دراصل قدیم ایرانی نثراد قبائل سے تھے، بلوچستان پرحکومت کی ۔950 ہجری کے بعد محمود غزنوی کے 1030 ہجری میں وفات تک ایران اور بلوچستان محمود غزنوی کے حکومت میں آئے تھے. 13 ویں اور 14ویں صدی میں منگولوں نے اس پورے خطے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا. منگول حکومت کے بعد پھر بلوچوں کی اپنی حکومتیں شروع ہوئی۔ جن میں پہلے کمبر اور اس کے بعد اس کا بیٹا سمبر اور سمبر کے بعد اس کا بیٹا محمد خان نے حکومت کی۔ لیکن ان کے بارے میں تاریخ خاموش ہے. پھر سردار امیرو خان میروانی نے قلات کی مرکزیت کی بنیاد ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا. 1511ء میں میر عمر قبیلے کا سردار بنا اور اس دوران کلات اور مکران کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کے لیے جنگ چڑ گئی اور میر عمر خان اس جنگ میں شہید ہو گئے اور میر چاکر خان رند نے قلات پر قبضہ کر لیا. بلوچستان کے تاریخ میں چاکر خان رند کو بڑا کردار سمجھا جاتا ہے. کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس 40 ہزار کی لشکر تھی اور تین لاکھ عام آدمی اس کے فوج میں تھے۔ اسی دوران میر عمر کی بیوی اس کے بیٹے میر بجار خان کو لے کر مستونگ منتقل ہوئی، پھر جب میربجار بڑا ہوا تو اس نے واپس کلات پر حملہ کیا اور رند حکومت کو ختم کیا. اس دوران منگولوں نے کلات پر قبضہ کیا لیکن یہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ اسکے بعد میر احمد خان نے قلات کو قبضہ کیا اور منگولوں سے اپنے علاقے چھین لیئے اور میر احمد خان اول 30 سال کی حکومت کے بعد وفات پا گئے اور اس کا بیٹا میر محراب خان اول تخت پر بیٹھ گیا. 1697ء میں بلوچوں اور کلہوڑوں میں جنگ چڑ گئی اور میر میرب خان اس جنگ میں شہید ہو گئے. اس کے بیٹے اُس وقت چھوٹے تھے تو اس کے بھائی میر سمندر خان کو تخت پر بٹھایا گیا. میر سمندر خان کے وفات کے بعد 1714 میں میراب خان کے بیٹے میر احمد خان دوئم تخت پر بیٹھا اور اس کو اس کے بھائی نے 1716ء میں قتل کیا اور تخت نشین ہوا. میر عبداللہ خان نے بہت سے جنگیں لڑی اور بلوچ تاریخ میں اپنا نام سونہرے حروفوں میں نکش کیا. میر عبداللہ خان کے وفات ہونے کے بعد اس کا بیٹا 1737ء میں میر محمد خان تخت نشین ہوئے اور 1747ء میں میر محمد خان کو ہٹا کر میر نصیر خان اول تخت پر بیٹھ گیا۔ میر نصیر خان بلوچوں کا فقید المثال بلوچ رہنما تھا۔ میر نصر خان نے بہت سی جنگوں میں حصہ لیا، جیسا کہ جنگ پانی پت، جنگ مشہد، سکوں سے جنگ وغیرہ شامل ہیں. آپ نے بہت سے کارنامے سرانجام دیئے جن میں فوجی تنظیم سازی، تجارت، عدل و انصاف سے کام کرنا اور زدالح آمدنی کی ترقی وغیرہ شامل ہیں۔ 1794ء میں آپ وفات پاگئے. میر نصیر خان کے بعد اس کا بیٹا محمود خان تخت نشین ہوا. 1817ء میں محمود خان کا بیٹا میر محراب دوئم کلات کے آٹھویں خان مقرر ہوئے. سن 1839ء میں انگریزوں نے قلات پر حملہ کیا اور آپ نے انگریزوں سے مقابلہ کرتے کرتے شہادت حاصل کی. یہاں پر کچھ چیزوں کا زکر کرنا ضروری ہے۔ جو درج زیل ہیں۔
‎(1) شجاع ملک نے احسان فراموشی کی.
‎(2) آخوند صالح محمد، آخوند محمدصدیق، ملا محمد حسن اور سردار قادر بخش نے غداری کر کے انگریزوں کو مدد کی اور چال بازی کر کے سارے سرداروں کو خان کے خلاف کیا اور انگریزوں کو معلومات فراہم کی. جب انگریزوں نے 1838ء میں شاہ شجاع ملک کو افغانستان کے تخت پر وآپس بٹھانے کا فیصلہ کیا تو برطانوی فوج نے درہ بولان کے ذریعے کندھار جانے کا فیصلہ کیا۔ تو سات جنوری 1839 کو مسٹر لیج نے کلات آکر خان سے معاہدہ کرنے کی پیش کش کی لیکن خان نے معاہدہ مسترد کردیا اور پھر جب 14 مئی کو الیگزینڈر برنس خود کلات آئے تو خان سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس نے خان کو کوئٹہ آنے اور شجاع ملک سے ملنے کی دعوت دی۔ لیکن ملا محمد حسن اور سعید محمد شریف، جو کہ خان کے وزیر تھے، نے خان کو کوئٹہ جانے سے منع کیا اور کہا کہ اگر آپ کوئٹہ گئے تو آپ کو انگریز مار دیں گے. اسکے ساتھ ہی انہون نے مری قبائلوں کے ذریعے انگریزوں پر حملہ کروایا اور سارا الزام خان پر ڈال دیا۔ جس سے انگریزوں نے خان کو اپنا دشمن سمجھ کر کلات پر حملہ کر دیا جس میں میر محراب خان شہید ہوگئے. اور انگریزوں نے میر محراب خان کے بیٹے نصیر خان دوئم کو تخت پر بٹانے کے بجائے شاہنواز کو تخت پر بٹایا. لیکن 1840ء میں نصیر خان نے قلات پر واپس حملہ کیا اور قلات پر قبضہ کیا. انگریزوں نے بھی بدلہ لینے کے لیے بہت سے حملے کیے لیکن وہ ناکام ہو گئے اور بال آخر معاہدہ کرنے کو راضی ہو گئے۔ 1841 کو انگریزوں اور قلات کے درمیان معاہدہ تہے پا گیا جس میں بہت سے شرائط شامل تھے۔ مثلاََ نصیر خان برطانوی افسر کے مشورے سے کام کریں گے، انگرزوں کی فوج کو بلوچستان میں آنے سے نہیں روکا جائے گا اور وغیرہ شامل تھے. اس کے بعد ایک کے بعد دوسرے معاہدے کرنا شروع ہو گئے اور بلوچستان میں آہستہ آہستہ انگریز اپنا کنٹرول جمانے لگے. 1857ء میں نصیر خان دوئم وفات پا گئے تو اس کا بیٹا خداداد خان تخت نشین ہوگئے. اب انگریزوں نے کلات میں اپنی طرف سے اپنا فرمانبردار خان لانے کی کوشش کی. اسی دوران انگریزوں نے خان پر حملہ کروایا اور خان شیر دل خان کو تخت نشین کیا۔ لیکن شیردل خان نے انگریزوں کے آلہ کار بننے سے انکار کیا تو اسکو انگریزوں نے قتل کروا دیا اور خداداد خان کو واپس تخت پر بٹایا. اسی طرح انگریزوں نے معاہدم کے ذریعے کلوز بارڈر سسٹم، ٹیلی گراف لائن کو مکران میں جمانے کی منصوبہ بندی، جرگہ سسٹم کا نافذ کرنا اور گولڈ اسمڈ لائن کو وجود میں لانا جیسے بہت سی چیزوں کو بلوچستان میں لایا گیا جو بلوچوں کے کمزوری کا سبب بنے. 1875ء میں سنڈیمن بلوچستان آیا اور سنڈیمن نے آہستہ آہستہ پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا. سب سے پہلے اس نے معاہدہ مستونگ کے تحت خان اور سرداروں کے درمیان صلاح کروا اور پھر معاہدہ جیکب آباد(جو 1876ء میں ہوا) کے تحت برطانوی فوج کو بلوچستان لانے کا اجازت لیا. اس نے پھر ایک اور معاہدے کے تحت کوئٹہ کو بھی 1833 میں برطانوی حکومت سے سالانہ 25 ہزار روپے رقم کے بدلے حاصل کرکے اس پر قبضہ کر لیا. 1892ء میں سنڈیمن وفات ہوگئے پھر جنرل جیمز براؤن بلوچستان آئے اور اس نے بھی اسی طرح معاہدہ کے ذریعے، 1894 میں، بولان میں ریلوے لائن بنا دیا اور 1899 کے معاہدہ کے زریعہ نوشکی کو سالانہ 9 ہزار روپے کے تحت برطانوی حکومت کے زیر اثر کر لیا۔

‎اسی طرح برطانوی توسیع پسندانہ پالیسی کے تحت بلوچستان پر بہت سے اثرات لائے گئے مثلاََ سیاسی خودمختاری کا خاتمہ، بلوچستان کی تقسیم، مقامی آبادی میں بےاعتمادی، معاشی اثرات (مثلاََ ٹیکسز وصول کرنا، قبائلی نظام کی کمزوری، انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی) اور پولیٹیکل ایجنٹ مثلاََ نوآبادتی قانون اور فوجی چھاونیاں قائم کرنا، لیویز سسٹم ،جرگہ سسٹم، سنڈیمن سسٹم کو متعارف کرنا، اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب کرنا شامل ہیں. 19 ویں صدی کے بعد انگریزوں نے بلوچستان پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سرداروں کو مکمل خودمختاری دے کر میر محمود خان کو انگریزوں کی طرف سے لایا گیا خان بنا دیا. ان سب کے باوجود بلوچستان میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہونے لگے. ان حالات میں سب سے پہلے میر یوسف عزیز مگسی نے آزادی کا پرچم بلند کیا. یوسف عزیز مگسی جو کہ 1908 میں بلوچستان کے علاقے جل مگسی میں پیدا ہوئے. آپ کے والد کا نام عزیز اللہ خان مگسی تھا. آپ نے پہلی بار 1929 میں ایک مضمون لاہور کے ہفتہ وار اخبار” ہمدرد” میں شائع کیا۔ جس میں اس نے بلوچ نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ “یہی وقت ہے غلامی کے زنجیروں کو توڑنے کا”. 1930 میں آپ کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں گرفتار لیا گیا. گرفتاری سے پہلے آپ نے خفیہ تنظیم انجمن اتحادان بلوچستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی. 1931 میں رہا ہونے کے بعد آپ کو اس تنظیم کا صدر منتخب کرلیا گیا. اس دور میں ریاست کلات عملاََ ایک انگریز کٹھ پتلی وزیراعظم سرشمس شاہ کے ہاتھوں میں تھا. مگسی ایجیٹیشن کے نام سے شاہ کے خلاف تحریک شروع ہوئی جو وائسراے ہند کے پاس دلی تک پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں میر عظیم جان کو خان کلات بنا دیا گیا اور شاہ کو وزیراعظم عہدے سے ہٹایا گیا. 1932 میں آل انڈیا بلوچ کانفرنس انجمن اتحاتدان بلوچان کی طرف سے منعقد کرلیا گیا۔ اس میں سندھ اور پنجاب کے دو سو مندوبین نے شرکت کی اور آزاد حکومت کے قیام کے مطالبے کی منظوری دی. 1933 میں آپ نے بلوچستان کی آواز(فریاد) کے نام سے ایک میگزین شائع کی جسکو برطانوی پارلیمنٹ لندن بھجوایا گیا. آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ شامل تھے، جن میں عبدالسمد اچکزائی، میر عبدالعزیز کرد وغیرہ شامل تھے۔ ان حضرات نے بےپنا قربانیاں دیکر آزادی کےجہد کو آگے بڈھایا. اس عہد میں میر احمد یار خان کلات کے تخت پر بیٹا ہوا تھا. انگریزوں نے عبدالعزیز کرد کو راستے سے ہٹانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام ہو گئے. خان احمد یار خان نے یوسف عزیز مگسی کو مشورہ دیا کہ آپ اینگلستان چلے جائیں تو آپ نے خان کے کہنے پر انگلستان کا رخ کرلیا. اور انگلستان سے وآپسی کے بعد آپ 1935 میں کوئٹہ میں ہونے والے زلزلے میں شہید ہوگئے۔

‎احمد یار خان کی سیاسی جدوجہد

‎ آپ ہر وقت بلوچوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے. آپ قلات کے خان تو بنے لیکن آپ اس بات کو بھی جانتے تھے کہ جب تک کوئی سیاسی جماعت میدان میں نہیں آئے گا تو ریاست برطانیہ کو توڑنا مشکل ہوگا. اس لیے آپ نے انجمن اتحادان بلوچان کی سرپرستی شروع کی. 1936 میں انجمن اسلامیہ ریاست قلات کے نام سے ایک غیر سیاسی تنظیم قائم ہو گئی. جس کا صدر میر گل خان نصیر تھا. لیکن اس کو انگریزوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا. پھر پانچ جنوری 1937 میں ریاست قلات کے نوجوانوں نے “کلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی” قائم کی جس کی صدر عبدالعزیز کرد تھے. جس کا مقصد ملک کے تعمیری اور معاشرتی ترقی کے لیے آئینی جدوجہد کرنا تھا اور پارٹی کا نظریہ یہ تھا کہ بلوچستان ایران کی طرح برطانوئی سامراج سے علیحدہ ملک بنے. میر احمد یار خان تو شروع سے ہی پارٹی کے ساتھ تھا. 1939 میں ریاست نے پارٹی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا. 1939میں قاضی محمد عیسی جب بمبئی میں قائد اعظم سے مل کر بلوچستان آئے تو اس نے مسلم لیگ کا قیام کیا۔ میر احمد یار خان نے مسلم لیگ کی بھرپور مدد کی پھر بلوچوں سمیت پشتونوں نے مل کر اس کی حمایت کی۔ جون 1943 میں قائد اعظم پہلی بار بلوچستان آئے اور ستمبر میں دوسری بار بلوچستان کا دورہ کیا۔ بلوچستان کی مختلف حالات کا جائزہ لے کر دسمبر 1945 میں آزادی ہند کے مسئلہ پر ہندوستانی لیڈروں نے روالیان ریاست سے گفت و شنید کرنے کیلئے حکومت برطانیہ سے ایک پارلنمٹری ڈیلیگیشن دلہی بجھوایا جس میں جہان خان قلات نے بھی شرکت کی اور قلات کی خودمختاری اور برطانوی اقتدار اعلی کے خاتمے کے بعد ریاست قلات کی مکمل بحالی کا کیس وائسرے ہند اور کیبنٹ مشن تک پہنچایا. پھر 11اگست 1947 ء کو نمائندہ تاج کی زیر صدارت خان قلات اور محمد علی جناح کے درمیان نئی دلہی میں ایک کانفرس ہوئی جس میں کچھ شرائط کی منظوری دی گئی. جن میں حکومت پاکستان ریاست قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرتی ہے اور اسکے علاوہ دیگر شامل تھے۔

Share To